Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23اگست1996
احمد دیدات ایک مشہور مسافر ہیں۔ وہ گجرات میں پیدا ہوئے۔ اس کے لیے ساؤتھ افریقہ جاکر وہاں بس گئے، ان کا ایک انٹرویو دہلی کے ماہنامہ التوعیہ کے شمارہ جولائی1996میں چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے: موجودہ دور کے بے نظیر مناظر شیخ احمد دیدات سے ایک انٹرویو ۔ اس انٹرویو کے آغاز میں مولانا عبدالحمید رحمانی کا ایک طویل نوٹ جس میں وہ لکھتے ہیں:
’’مجھے یہ سعادت حاصل ہے کہ اپنے ایک دوست کے دولت کدہ پر دبئی میں ان کے ساتھ کئی دن مقیم رہا ہوں۔ اور وہاں ان سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ علوم شریعہ اور عربی سے واسف نہ ہونے کی وجہ سے موصوف ایجابی طور پر دعوت اسلام کا حس ادانہیں کرپاتے۔ میں نے موصوف کو اس طرف متوجہ کرایا۔ لیکن ہر صاحب کمال میں جواناہوتی ہے، ان کے اندر وافر مقدار میں ہونے کی وجہ سے وہ ہمارے مشوروں سے خوش نہیں ہوئے‘‘ صفحہ19
مجھے اس سے اتفاق نہیں کہ صاحب کمال میں اناہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنا زیادہ کمال پیدا ہوگا اتنا ہی انا گھٹتی چلی جائے گی۔ اس طرح ایک مومن کو جتنی زیادہ معرفت بڑھے گی اتنا ہی زیادہ اس کے اندر تواضع پیدا ہوگی۔ انا ہمیشہ اپنی ظاہری ترقی پر پیدا ہوتی ہے کہ نہ داخلی معنوںمیں حصہ لی کمال پر۔