Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23جولائی1996
مکہ سے نکلنے والا عربی ہفت روزہ العالم الاسلامی (28-22صفر1417ھ،14-8جولائی1996)بدرپور ڈاک اس میں ’’المفکر الاسلامی‘‘ دکتور محمد عمارۃ کا انٹرویو چھپا ہوا ہے۔ جس کو خالد محمد غازی نے مرتب کیا ہے۔ اس میں موصوف جوش کے ساتھ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا اتحاد ہی واحدراستہ ہے جس کے ذریعہ سے مسلمان دنیا میں اپنے حقوق کو واپس لے سکتے ہیں (وحدۃ الصف الاسلامی ھی السبیل لا یتعارۃ حقوق المسلمین فی العالم)
یہ بات مجھے بالکل سطحی معلوم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا مسئلہ فلسطین کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ پر تمام دنیا کے مسلمان متحد ہیں۔ تمام دنیا کے مسلمانوں نے فلسطین کے محاذ پر ہر قسم کا تعاون اور قربانی پیش کی ہے۔ اس کے باوجود فلسطین کے محاذ پر مسلمانوں کو مکمل ناکامی ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ فقدان اتحاد کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ فقدان نتیجہ اتحاد کا مسئلہ ہے۔ چونکہ مطلوب نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے اس لیے لوگ سمجھتے ہیں کہ اتحاد بھی نہیں ہوا۔ حالانکہ واقعات بتاتے ہیں کہ جو چیزمقصود ہے وہ نتیجہ ہے نہ کہ اتحاد۔
ایسی حالت میں یہ کہنا بے معنی ہے کہ اپنے غضب شدہ حقوق کی واپسی کے لیے متحد ہوجاؤ۔ بلکہ اصل کہنے کی بات یہ ہے کہ آؤ ہم مل کر غورکریں کہ کیا وجہ ہے کہ متحد ہوجانے کے باوجود ہم اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔