Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27مارچ1996
مسلم دانشور ساری دنیا میں یہ کر رہے ہیں کہ جب وہ غیر مسلموں کے اس پروپیگنڈے کا جواب دینا چاہتے ہیں کہ اسلام تشدد اور نارواداری کا مذہب ہے تو اس وقت وہ قرآن و حدیث کے وہ اجزا کو نقل کرتے ہیں جن میں یکطرفہ طور پر پرامن ہونے کی تلقین کی گئی ہے۔ مگر یہی لوگ جب ان مسلمانوں کے بارے میں لکھتے ہیں جو اسلام کے نام پر جگہ جگہ متشدددانہ تحریک چلارہے ہیں اور نتیجۃً ظلم کا شکار ہورہے ہیں تو وہاںوہ فوراً ان کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔
یہ ایک تضاد ہے۔ اسلام جب یکطرفہ طور پر پر امن رہنے کی تعلیم دیتا ہے تو ان اسلام پسندپر فرض تھا کہ وہ شکایت کے باوجود لوگوں سے ٹکراؤ نہ کریں۔ جب انہوں نے صبر و اعراضی کا اسلامی طریقہ چھوڑ کر ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا تو اس کے بعد فریق ثانی ان کے ساتھ وہی کرے گا جو اب وہ کررہا ہے۔ ایسی حالت میں فریق ثانی کی کارروائی ظلم نہیں ہے بلکہ نام نہاد اسلام پسندوں کے غلط اقدام کی سزا ہے جس کو بھگت رہے ہیں۔