Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
10دسمبر1996
مولانا عبدالسلام رحمانی ایک اہل حدیث عالم ہیں۔ آج کی ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ1978میں وہ فجی گئے۔ ان کی کوششوں سے وہاں اہل حدیث کا ایک حلقہ بن گیا۔ وہ میلادالنبی اور چالیسواں جیسے رواجوں پرتنقید کرتے تھے۔ اس بناپر ایک عالم ان سے غصہ ہوگئے جو اگرچہ دیوبندی تھے مگر وہاں کے حالات کی بناپر انہوں نے مبتدعانہ رسومات کی سرپرستی اختیار کرلی تھی۔ یہ دیوبندی عالم مولانا عبدالسلام کے خلاف ہوگئے۔ یہاں تک کہ گورنمنٹ میں شکایتیں کرکے انھوں نے ان کا امیگریشن کینسل کرایا۔ اب وہ واپس آکر بستی کے ایک مدرسہ میں کام کرتے ہیں۔
پچھلے دن مولانا عنایت اللہ سبحان (بلریاگنج) ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سعودی عرب کے مبعوث تھے اور وہاں کی تنخواہ پر جامعۃ الفلاح میں کام کرتے تھے۔ وہ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی پر بعض معاملات میں تنقید کرتے تھے۔ چنانچہ جماعت اسلامی کے مقامی افراد ان پر غصہ ہوگئے۔ انہوں نے ان کے خلاف سعودی عرب کے متعلق محکمہ میں شکایتیں بھیجیں ،یہاں تک کہ وہاں سے ان کی تنخواہ بند کردی گئی۔ اور ان کی مبعوث کی حیثیت ختم کردی گئی۔ اس طرح کوپاگنج کے مولانا ممتاز قاسمی نے بتایا کہ کوپا گنج میں وہ الرسالہ کی تائید کرتے تھے اور اس کی ایجنسی چلاتے تھے۔ اس کے ساتھ وہ وہاں گورنمنٹ کے پرائمری اسکول میں اردو ٹیچر تھے۔ الرسالہ کی بعض تنقیدوں کی بناپر جمعیۃ علماء ہند کے مقامی افراد مولانا ممتاز صاحب کے خلاف ہوگئے اور کوشش کرکے ان کی ملازمت ختم کرادی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت اگر میں وہاں ہوتا تو مجھے چار ہزار روپیہ مہینہ مل رہا ہوگا۔ اب وہ بمبئی میں اقامت کرتے ہیں۔
اس طرح کے واقعات غالباًاس لیے ہوتے ہیں کہ لوگوں نے اپنی شخصیتوں اور اپنی جماعتوں کومعیارِ حق سمجھ لیا ہے۔ اس بناپر جب کوئی شخص ان کی شخصیت یا ان کی جماعت پر تنقید کرتا ہے تو وہ بلادلیل یہ یقین کرلیتے ہیں کہ ناقد ضرور غلطی پر ہے۔ یہی جھوٹا یقین ان کو مذکورہ قسم کی تخریبی کارروائیوں پر آمادہ کرتا ہے۔