Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
3اکتوبر1996
صبح کو ناشتہ میں شہد اور روٹی کھارہا تھا۔ اچانک خیال آیا کہ شہد کی مکھی شہد بناتی ہے، حالانکہ اس کو شہد کی ضرورت نہیں۔ پھر سوچتے ہوئے ذہن میں آیا کہ یہی اس دنیا میں تمام چیزوں کا معاملہ ہے۔ سورج روشنی اور حرارت پیدا کرتا ہے، حالاں کہ اس کو خود روشنی اور حرارت کی ضرورت نہیں۔ ہوا ہر طرف آکسیجن لیے پھرتی ہے، حالانکہ اس کو آکسیجن کی ضرورت نہیں۔ زمین اپنے اندر پیٹرول کا خزانہ لیے ہوئے ہیں حالانکہ اس کو خود تیل کی ضرورت نہیں۔سمندر پانی کا بھنڈار بنے ہوئے ہیں حالانکہ سمندروں کو پانی ضرورت نہیں۔ درخت پھل پیدا کرتے ہیں حالانکہ درختوں کو خود اپنے لیے پھل کی ضرورت نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
ملحد انسان دنیا کو نیچر کی کارفرمائی مانتا ہے۔نیچر اگرچہ گھاس کی ایک پتی بھی پیدا نہیں کرسکتی۔ تاہم بالغرض اگر دنیا محض نیچر کی کارفرمائی ہوتی تو کائنات کے تمام اجزاء وہی چیزیں پیدا کرتے جن کی انہیں ضرورت تھی۔ لیکن اجزاء کائنات کا ان چیزوں کو پیدا کرتاجن کی خود انہیں ضرورت نہیں۔اور پھر ان تمام چیزوں کا حیرت ناک حد تک انسان کے موافق ہونا ثابت کرتا ہے کہ کائنات ایک منصوبہ بند تخلیق ہے نہ کہ کوئی الل ٹپ قسم کا واقعہ۔