Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
4دسمبر1996
نومبر1996میں اعظم گڑھ میں مولانا سید سلیمان ندوی پر ایک سمینار ہوا۔ یہ سمینار جامعۃ الرشاد اور دارالمصنفین کے تعاون سے منعقدہ کیا گیا تھا۔ اس سمینار میں شرکت کے لیے ڈاکٹر عبدالحلیم اویس قاہرہ سے آئے تھے۔ اس سفر کے دوران دہلی میں ان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آج کل مسلمانوں میں ایک نیا رواج شروع ہواہے۔ ہر ادارہ اپنے اکابر کے نام پر سمینار کررہا ہے۔ مگر اان جتماعات کا زیادہ صحیح نام "مدح نار" ہونا چاہیے۔ کیونکہ سمینار وہ ہے جس میں زیربحث موضوع پر آزادانہ بحث ہو اور موافق، مخالف رائیں آزادی کے ساتھ پیش کی جائیں۔ مگر ہمارے اداروں میں جو سمینار کئے جارہے ہیں، ان میں اپنی محبوب شخصیتوں کے صرف قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔ تنقیدی اظہار رائے کی وہاں کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر عبدالحلیم اویس نے میری رائے سے اتفاق کیا۔
شخصیتوں پر سمینار بھی ایک سطحی اور غیر علمی فعل ہے۔ سمینار موضوعات پر ہوتے ہیں ،نہ کہ شخصیت پر۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ادارے حقیقی علمی ذوق سے کتنا زیادہ دورہوچکے ہیں۔