Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
بصارت کھوگئی تو کیا بصیرت تو سلامت ہے مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ
اس شعر میں جو بات کہی گئی ہےوہ غالباً کسی آنکھ والے شاعر کے ذہن میں نہیں آسکتی تھی۔ اس طرح 1947سے پہلے ہندوستان کے ایک آزادی پسند شاعر کو محض حکومتیں جیل میں بند کردینے اس کے بعد اس نے قید کی حالت میں یہ شعر کہا:
زنداں میں تو مجھ کو ڈال دیا اے صاحب زنداں تو نے مگر پرواز جو میری روک سکے ایسی بھی کوئی دیوار اٹھا
اس شعر میں جو بات کہی گئی ہے وہ غالباً کسی ایسے شخص ہی کے ذہن میں آسکتی ہے جو قیدوبند کی حالت میں مبتلا ہو۔ مولانا شبلی نعمانی اپنی آخر عمر میں اعظم گڑھ کے کردار المصنفین میں مقیم ہوگئے تھے۔ ایک روز اتفاق سے بھری ہوئی بندوق چل گئی۔ ان کا ایک پاؤں شدید طور پر زخمی ہوگیا یہاں تک کہ سرجن نے اس کو کاٹ دیا۔ اس کی جگہ پر لکڑی کا پاؤں لگایاگیا۔ اس حادثہ کے بعد شاعروں سے حسن تعلیل کے طور پر بہت سے اشعار کہے متعلقہ ان کے شاگرد اقبال احمد سہیل کا ایک شعر یہ تھا: