Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
13نومبر1996
ایک صاحب نے ماہنامہ الرسالہ کی بہت تعریف کی۔ میں نے پوچھا کہ الرسالہ کی کیا چیز آپ کو پسند ہے۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ کے مضامین میں چھوٹی چھوٹی باتوں میں بڑی بڑے نتیجے نکالے جاتے ہیں۔ اور وہ مجھے بہت پسند آتے ہیں۔
میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ الرسالہ کو ایک قسم کا ادبی کرتب سمجھتے ہیں۔ مگر الرسالہ کوئی ادبی کرتب نہیں۔ اس قسم کی باتیں جوالرسالہ میں ہوتی ہیں وہ دراصل قرآن کی آیت تو سم کی تفسیریں ہیں۔ الرسالہ نے تاریخ میں پہلی بار قرآن کی آیت تو سم کی منظم تفسیر بیان کی ہے۔
مزید یہ کہ یہ محض ایک تفسیری نکتہ نہیں۔ یہ دراصل وہ چیز ہے جس کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ قرآن میں رزق روحانی یا تربیت اسلامی کا ذریعہ آیات کائنات کو بتایا گیا ہے۔ مگر ہزار سال سے لوگ اس سے باخبر تھے۔ لوگوں کو اس سلسلہ میں صرف یہ معلوم تھا کہ کسی صاحب تصوف سے بیعت وارشاد کا تعلق قائم کرکے سلوک کی تکمیل کی جائے۔ حالانکہ یہ سارا معاملہ ایک بدعت ہے جو بعد کے دور میں وضع کیا گیا۔ الرسالہ میں پہلی بار سلوک قرآن کو ازسرنو زندہ کیا گیا ہے۔ الرسالہ کے مذکورہ مضامین دراصل متبدعانہ تصوف کا اسلامی بدل ہیں۔