Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25جون1996
روی انّ قوماً حاصروا حمناً فقاتل رجل حتی قتل۔ فقیل البقی بیدہ الی التھلکۃ۔ تبلغ عمربن الخطاب ذلک فقال۔ کذبوا، الیس یقول اللہ تعالیٰ: ومن الناس من یشری نسہ ابتغاء مرضات اللہ (تفسیر الفخر الرازی148/2)
مسلمانوں کی ایک جماعت نے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا۔ ایک شخص اٹھ کر دشمن سے لڑا اور ماراگیا۔ لوگوں نے کہا کہ اس نے (قرآن کے مطابق) اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا۔حضرت عمرفاروق کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ جنہوں نے ایسا کہا انہوں نے جھوٹ کہا (کیوں کہ آیت کا یہ مطلب نہیں )
اس واقعہ میں حضرت عمر کو آیت کی ایک تفسیر سے اختلاف تھا۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ اس آیت کی یہ تفسیر نہیں ہے۔ مگر اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ کَذَبُوا (انہوں نے جھوٹ کہا) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحاب کے زمانہ میں نہ صرف تنقید کی عام اجازت تھی بلکہ سخت الفاظ میں تنقید کرنے کو بھی عیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔