Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22اکتوبر1996
یوسف سلیم چشتی صاحب نے لکھا ہے کہ1922میں میرے استاد مولانا آزاد سبحانی مرحوم نے پریڈ گراؤنڈ کانپور میں ایک تاریخی تقریر کی تھی، اس میں انہوں نے کہا تھا شدھی کی تحریک کا موثر مقابلہ کرنے کے لیے مسلمانوں کو قرآن سے رابطہ فعال (Living Contact)پیدا کرنا ہے اور علماء قرآن کو درس نظامی میں داخل کریں۔ (حکمت قرآن، اگست1996۔ صفحہ18)
یوسف سلیم چشتی صاحب نے آگے جو باتیں لکھی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن سے رابطۂ فعال کا مطلب قرآن سے عشق کے درجہ کا تعلق قائم کرنا ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک بے اصل بات ہے۔ قرآن اور حدیث میں کہیں یہ بات نہیں ہے کہ اے مسلمانو تم لوگ قرآن کے عاشق بن جاؤ۔ مذکورہ سیاق میں صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہندوؤں کے معاملہ میں قرآن کی ہدایت کے مطابق عمل بنانا چاہیے۔ اور وہ یہ ہے کہ ہندوؤں کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے وہ انصاف سے کام لیں۔ ہندوؤں کو اسلام کا دشمن قرار دینے کے بجائے وہ ان کو اسلام کا مدعو سمجھیں۔ ہندوؤں کے مسئلہ کو دفاع کا مسئلہ بنانے کے بجائے وہ اس کو دعوت کا مسئلہ بنائیں۔