Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22مارچ1996
جمعہ کا خطبہ ہورہا تھا۔ عین اس وقت ایک نوجوان صف میں داخل ہوا۔ اس نے کھڑے ہوکر سنت کی نیت باندھ لی۔ دور بیٹھے ہوئے ایک صاحب زورزور سے بولنے لگے۔ ’’ارے، تم یہ کیا کررہے ہو۔ دیکھتے نہیں کہ خطبہ ہورہا ہے۔ کیسے لوگ ہیں کہ مسئلہ نہیں معلوم، خطبہ ہورہا ہے اور سنت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے‘‘۔ نوجوان نیت توڑکر بیٹھ گیا۔ تاہم مذکورہ بزرگ دیر تک بڑبڑانا کے انداز میں بولتے رہے۔
نماز سے فارغ ہوکر میں واپس ہوا تو میرے دماغ میں خیالات کا ہجوم تھا۔ میں نے کہا۔ بولنے والے نمازی تو بہت ہیں مگر وہ نمازی کہیں دکھائی نہیں دیتا جس کی نماز نے اس کو چپ کر دیا ہو۔ دوسروں کی خرابیوں کو جاننے والے نمازیوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ مگر ایسے نمازیوں سے مسجد یں خالی ہیں جو اپنی کوتاہیوں کی فکر میں اتنا گم ہوں کہ انہیں دوسروں کی کوتاہیوں کو دیکھنے کی فرصت ہی نہ رہے۔