Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29اگست1996
قرآن و حدیث کو سمجھنے کے سلسلہ میں ایک بہت اہم نکتہ یہ ہے کہ بعض اوقات ایک لفظ علامتی معنی میں ہوتا ہے۔ مگر لوگ اس کو حقیقی معنی میں لے لیتے ہیں۔ یہ چیز فہم دین میں ایک رکاوٹ ہے۔ مثلاً سورہ القصص میں ہے: ان الذی فرض علیک القرآن لرادُّک الی معاد (القصص85)اس آیت میں معاد کی تفسیر میں اختلاف واقع ہوا ہے۔ تاہم زیادہ تعداد نے اس سے مکہ مراد لیا ہے۔ (القرطبی321/13)
معاد کے لفظی معنی ہیں پلٹنے کی جگہ۔ بظاہر مکہ کی تفسیر درست ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوپہلے مکہ چھوڑنا پڑاتھا۔ اس کے بعد آپ دوبارہ اس کی طرف فاتحانہ واپس آئے۔ مگر یہ بھی غورطلب ہے کہ یہ آنا صرف چند دن کے لیے تھا۔ چنانچہ پھر آپ مدینہ ہی کی طرف واپس چلے گئے اور اپنی عمر کے بقیہ دس سال مکہ سے دور وہیں گزارے۔ اس لیے اس کو لفظی معنی میں نہیں لیا جاسکتا۔
اصل یہ ہے کہ یہاں ’’مکہ‘‘ ایک علامتی لفظ ہے، وہ لفظی مفہوم میں نہیں ہے۔ آپ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا جومشن آپ لے کر اٹھے ہیں وہ درسگاہ چلانے والا نہیں۔ لوگوں کی مخالفتوں کے باوجود وہ اپنی تکمیل تک اور اپنی منزل مقصود تک پہنچ کررہے گا۔ اس سیاق میں ’’مکہ‘‘ دراصل مطلوب و مقصود منزل کی ایک علامت ہے۔