Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5مئی1996
اکثر لوگ مجھ سے تقاضا کرتے ہیں کہ اپنی سوانح حیات لکھئے۔ بظاہر مجھے یقین نہیں ہے کہ میں خود اپنی سوانح حیات لکھ سکوں گا۔ تاہم میری سوانح حیات تیارکرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی زندگی کے ابتدائی حالات میں لکھ چکاہوں۔ اور وہ غیر مطبہ سے حالت میں موجود ہیں۔ میرے بعد اگر کوئی ایسا شخص مل جائے جس کے اندر شوق اور محنت کا مادہ ہو تو وہ بعد کے حالات مرتب کرکے میری پوری لائف لکھ سکتا ہے۔
1976میں جب میں نے الرسالہ جاری کیا تو گویا اپنی سوانح عمری بھی بالآخر انداز میں لکھنا شروع کردیا۔ الرسالہ معروف معنوں میں کوئی پرچہ نہیں۔ وہ خود میرے سفر حیات کی داستان ہے۔ جس کا کچھ حصہ الرسالہ کے صفحات میں چھپ چکا ہے اور کچھ حصہ اس شمارہ میں شوق اور محنت والا ایک آدمی اگر سفرنامہ، خبرنامہ، ڈائری، خطوط وغیرہ۔ پڑھے تو وہ ان کے اندر وہ سارے مواد پالے گا جو کسی آدمی کی سوانح عمری لکھنے کے لیے درکارہوتے ہیں۔