Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29مارچ1996
سیلم (ٹامل ناڈو) سے حکیم ابوالخطیب صاحب ایک جماعت لے کر آئے ہیں۔ اس میں ان کے ساتھ تین لڑکے تھے۔ سراج الدین احمد (15سال) عبدالحنان (16سال) افسر احمد (15سال) حکیم صاحب کے ساتھ یہ تینوں لڑکے مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ ان کے جوحالات معلوم ہوئے وہ نہایت سبق آموز ہیں۔
تینوں لڑکے دسویں کلاس میں پڑھ رہے ہیں۔ ان کا اسکول سی بی ایس سی (CBSC)کے تحت یہ اور سر جاتا رہے: سری ودیامندر۔ اس اسکول میں99فیصد طلبا اور اساتذہ ہندو ہیں اس میں مکمل طور پر ہندو ماحول ہے۔ اس بناپر انہیں کئی معاملات میں سخت مشکل پیش آتی تھی۔ مثلاً وہاں ہر صبح کو ایک بھجن ہوتا ہے جو تمام تر ہندو عقائد پر مبنی ہے۔ اس طرح اور بھی ہندو تقریبات ہوتی رہتی ہیں۔ ان پروگراموں میں شرکت مذکورہ مسلم نوجوانوں کو سخت گراں گزرتی تھی مگر یہ مسئلہ نہایت خوش اسلوبی سے حل ہوگیا۔
اصل یہ ہے کہ یہ تینوں لڑکے نہایت مخفی تھے۔ انہیں تعلیم کے سوا کسی اور چیز سے دلچسپی نہ تھی۔ چنانچہ انہوں نے اسکول میں ٹاپ کرنا شروع کیا۔ مختلف مقابلوں میں انہوں نے اسکول کا نام اونچا کیا۔ سراج الدین نے سیلم کے پانچ اسکولوں میں اول نمبر حاصل کئے۔ اس طرح وہ اسکول کے لیے پرائڈ بن گئے۔ اس سے ان لڑکوں کا حوصلہ بڑھا۔ انہوں نے اسکول کے پرنسپل بالاسبرامنیم سے مل کر کہا کہ یہ بھجن وغیرہ ہمارے اسلامی عقائد کے خلاف ہے۔ اس لیے ہم لوگ اس میں شرکت نہیں کرسکتے۔ پرنسپل نے ہمدردی کے ساتھ ان کی بات کو سنا اور انہیں ایسے پروگراموں میں شرکت سے مستثنیٰ کردیا ۔ اس نے کہا کہ آپ لوگ صرف کلاس میں شرکت کریں۔ یہی آپ کے لیے کافی ہے۔