Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
8فروری1996
عصر کی نماز کے لیے کالی مسجد (نظام الدین) پہنچا۔ پھر ایک صاحب کے ساتھ نظام الدین بستی کی ایک اندرونی مسجد گیا جس کا نام سکینہ مسجد ہے۔ نماز ختم کرکے امام نے سلام پھیرا تو صف میں سے ایک بوڑھا شخص فوراً کھڑا ہوگیا۔ اس کے دنوں ہاتھوں میں رعشہ تھا۔ اس نے کہنا شروع کیا۔ بھائیو، میری مدد کرو، وغیرہ۔ ایک نمازی اس کے اوپر بگڑگیا۔ اس نے سخت لہجہ میں اس سے کہا کہ لوگ خداسے مانگ رہے ہیں اور تم انسانوں سے مانگ رہے ہو۔ اور بھی کئی سخت الفاظ کہے۔
میں نے دیکھا کہ نماز ختم ہوتے ہی کئی آدمی سائل کی طرف سےمزکورہ نمازی کے خلاف بولنے لگے۔ غالباً مسجد کا کوئی بھی شخص اس نمازی کی حمایت کرنے والا نہیں تھا جس نے سائل کو سخت سست کہا تھا۔
میں نے سوچا کہ منطقی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس معاملہ میں اصل غلطی سائل کی ہے۔ نماز کے بعد لوگ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور عین اسی وقت اس نے بلند آواز سے مانگنا شروع کردیا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تمام لوگوں نے سائل کی حمایت کی۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک معذورشخص تھا۔ معذورہی آدمی کے لیے سفارش بن جاتی ہے۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے جس میں کوئی استثناء نہیں۔