Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30جنوری1996
حدیث میں آیا ہے کہ خالفوا الیھود۔ یہود کے خلاف عمل کرو۔ اس سے لوگوں نے وہ مسئلہ نکال لیا ہے جس کو آج کل ملی تشخص کہا جاتا ہے۔ مگر ملی تشخص کے نظریہ کا مذکورہ حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے زیادہ گہرائی سے دیکھنا چاہیے۔
روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہنے ہوئے نماز پڑھتے تھے۔ اس سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ یہود جوتا پہن کر نماز پڑھتے، اس لیے تم اس کے خلاف عمل کرو (مشکوٰۃ238/1) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مستقل طور پر آپ ایسا کرتے تھے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کبھی کبھی آپ نے ایسا کیا۔ ابن مجر العسقہ لانی نے لکھا ہے کہ اس کا مقصد یہود کی مخالفت کرنا تھا (فتح الباری589/1)
اصل یہ ہے کہ یہود کے یہاں دین کی اسپرٹ فتح ہوچکی تھی۔ البتہ طورپر کاخوب اہتمام تھا۔ وہ سمجھنے لگے تھے کہ جوتا پہن کر نماز پڑھنے سے عبادت غیر افضل ہوجاتی ہے اور جوتا اتار کر عبادت کرنا عبادت کا افضل طریقہ ہے۔ آپ نے یہود کی مخالفت کی بات اسی ظاہراپنی کتوڑنے کے لیے فرمائی۔ اس طرح آپ نے فرمایا کہ تم لوگ افطار میں جلدی کرو، کیونکہ یہود افطار میں دیر کرتے ہیں۔ یہوداس کو تقویٰ سمجھتے تھے کہ سورج ڈوبنے کے باوجود بربتانے احتیاط دیر کے افطار کی جائے۔ یہاں بھی اسپرٹ پر ظاہر پرستی غالب آگئی تھی۔ چنانچہ آپ نے اس کے خلاف حکم دیا۔ یہ یہود کی مخالفت نہیں تھا بلکہ وہ دراصل ظاہر رہتی کی مخالفت پر تھا۔