Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
7مئی1996
جامع الترمذی (46/1)میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خوف یا بارش کے بغیر ظہر اور عصر نیز مغرب اور عشاء کی نماز جمع کے ساتھ پڑھی۔ راوی سے پوچھاگیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔ انہوں نے کہا اس لیے کہ آپ کی امت تنگی میں مبتلا ہو (عن ابن عباس قال جمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین الظھروالعصر و بین المغرب والعشاء بالمدینۃ من غیر خوف ولامطر۔ قال فقیل لابن عباس ما ارادیذلک۔ قال اراد ان لا تحرج امتہ)
اس واضح حدیث کے باوجود ائمہ اربعہ (حنفیہ، شافعیہ، مالکیہ، مقابلہ) کا اس پر اتفاق ہے کہ جمع بین الصلاتین عذر کے بغیر مطلق جائز نہیں۔ حتی کہ اہل حدیث کا مسلک بھی یہی ہے۔ چنانچہ مولانا مبارک پوری نے اس کو جمع صدر پر محمول کیا ہے۔ یعنی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز بالکل آخر وقت میں اور عصر کی نماز بالکل اول وقت میں پڑھی۔ اسی طرح مغرب اور عشاء بھی۔ اس طرح شکلی اعتبار سے دونوں کی روانگی بظاہر ایک ساستھ ہوگئی (تحفۃ الاحوذی166-67/1)
میں اس تاویل کو غلط سمجھتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی عمل کو حضرت عبداللہ بن عباس کی تشریح کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ آپ نے ایسا اس لیے نہیں کیا تاکہ لوگ عام طور پر بلا عذر جمع کرنے لگیں۔ بلکہ اس کا مقصد امکانی تنگی کو رفع کرنا تھا۔ موجودہ دنیا میں احلال و ظروف کی بے شمار امکانی قسمیں ہیں۔ کبھی کوئی مسلمان ایسی حالت میں مبتلا ہوسکتا ہے کہ سفر کے معروف عذر کے سوا کوئی اور عذر سے لاحق ہوجائے اور وہ محسوس کرے کہ اس کے لیے جمع کے سوا کوئی اور قابل عمل صورت نہیں۔ رسول اللہ نے پیشگی اور ایک کے تحت مذکورہ عمل کیا تاکہ ایسے مسلمان کے لیے بھی آپ کی صفت میں ایک نمونہ موجود رہے۔