Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22ستمبر1996
نظام الدین اولیاء اور قاضی ضیائ الدین سنامی دونوں ہم عصر تھے اور دونوں دہلی میں رہتے تھے۔ نظام الدین اولیاء مزامیر اور قوالی کو جائز سمجھتے تھے۔ جب کہ قاضی ضیاء الدین سنامی اس کے خلاف تھے۔ ایک مرتبہ قاضی صاحب سخت بیمار ہوئے۔ حالت سن کر نظام الدین اولیاء ان سے ملنے کے لیے ان کے دکان پر گئے۔ خادم نے اندرجاکر اطلاع دی تو قاضی صاحب نے ملاقات سے انکار کردیا۔ نظام الدین اولیاء نے وجہ دریافت کی تو کہلادیا کہ آپ سماع اور مزامیر کی مجلسوں میں شرکت کرتے ہیں اور اس کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ میں اس کو بدعت سمجھتا ہوں۔ اگر میں آپ سے ملوں تو یہ ایک بدعتی کی توقیر ہوگی، جب کہ حدیث میں آیا ہے کہ: من وقر صاحب بدعۃ فقد المان علی ھدم الاسلام (جس نے بدعت والے کی توقیر کی اس نے اسلام کی عمارت ڈھانے میں مددکی)
نظام الدین اولیاء نے خادم سے کہا کہ اندر جاکر تم میرے دوست سے کہہ دو کہ بدعتی نے آج سے اپنی بدعت سے توبہ کرلی۔ قاضی صاحب کو یہ خبر پہنچی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے خادم کو اپنا عماد دیا اور کہا کہ اس کو لے جاؤ اور میرے دوست کے راستہ میں بچھادو۔ ان سے کہو کہ وہ اس پر چل کر اندر تشریف لائیں۔ نظام الدین اولیاء نے عمامہ اٹھالیا اور قاضی صاحب کے پاس پہنچ کر ان کی عیادت کی۔ اس کے بعد دونوں پر رقت طاری ہوگئی اور دونوں رو پڑے۔