Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
7جنوری1996
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد تقریباً سترہ مہینے تک بیت المقدس (صخرۃ) کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔ اس کے بعد حکم ہوا کہ کعبہ کو اپنا قبلہ بناؤ۔ اس کے فوراً بعد رسول اللہ اصحاب رسول کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرنے لگے۔
اس سلسلہ میں اس وقت ایک سوال پیدا ہوا۔ کہ مسلمان جومدینہ سے باہر تھے انہیں تحویل قبلہ کا حکم دیر سے ملا۔ انہوں نے حکم آنے کے بعد بھی اپنی کئی نمازیں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے پڑھ لیں۔ ان مسلمانوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو تحویل قبلہ کا حکم ملنے سے پہلے انتقال کرگئے۔ حدید کمیونٹی کیشن سے پہلے اس قسم کے واقعات کا پیش آنا فطری تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ ان مسلمانوں کی نمازوں کا کیا ہوگا۔ کیا وہ اپنی ان نمازوں کو دہرائیں۔ اور اگر زندہ لوگ نہ مانیں تو جولوگ مرچکے ان کی نمازیں قبول ہوں گی یا نہیں۔
اس وقت یہ آیت اتری کہ ماکان اللہ لیضیع ایمانکم (البقرہ142)یعنی ایسے لوگوں کو اپنی نمازیں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ جو لوگ مرچکے ان کی نمازیں بھی قبول کرلی گئیں۔ (تفسیر القرطبی157/2)اس سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ جو آدمی اپنی معلومات کے دائرہ میں مخلصانہ طور پر عمل کرے وہ اللہ کے یہاں بری الذمہ ہے۔ اگر اخلاس کامل ہو تو معلومات کا ناقص ہونا آدمی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔