Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
11جولائی1996
الدکتور محمد شحرورایک مشہور مصری دانشورہیں۔ وہ ایک غیرروایتی مفکر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی ایک کتاب دیکھی۔ اس کا نام یہ ہے۔ الکتاب والقرآن: قرأۃ معاصرۃ۔ وہ1992میں قاھرہ سے چھپی ہے۔ وہ822صفحات پر مشتمل ہے۔
ایک بحث کے تحت انہوں نے یہ حدیث رسول نقل کی ہے: اختلاف امتی رحمۃ (الجامع الصغیر12/1)یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ اس حدیث کے ذیل میں وہ لکھتے ہیں: فقد علق علیہ البعض بانہ اذاکان الاختلاف رحمۃ فھذا یعنی ان الاجماع نقمۃ۔ اقول ان الاجماع نقمۃ فعلاً (صفحہ722)یعنی کچھ لوگوں نے اس پر یہ تعین کی ہے کہ اختلاف اگر رحمت ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اجماع زحمت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اجماع تو بالفعل زحمت ہے۔
اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ اجماع قرآن کی طرح کوئی مستقل ماخذ شریعت نہیں۔ اجماع یہ ہے کہ کسی معاملہ میں کچھ لوگوں کا وقتی اتفاق رائے ہوجائے۔ مقام اور حالات کے بدلنے سے احکام بدلتے رہتے ہیں اس لیے اجماع کوئی ابدی چیز نہیں ہوسکتا۔