Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
2جون1996
حضرت عثمان کے قتل کے بعد حضرت علی کی خلافت پر جو بیعت کی وہ جزئی بیعت تھی۔ کیوں کہ ابھی بہت سے لوگوں نے ان کی خلافت پر اتفاق کا اظہار نہیں کیا تھا۔ انہوں نے لشکرتیار کیا تاکہ مدینہ سے شام پہنچ کر امیر معاویہ کو زیرکریں۔ اس وقت ان کے بڑے لڑکے حسن ان سے ملے اور کہا کہ اے باپ، اس کو چھوڑئیےکیوںکہ اس میں مسلمانوں کا خون بہے گا۔ ان کے درمیان اختلاف پہنچا نہیں۔ مگر حضرت علی نے اس مشورہ کو قبول نہیں کیا اور جنگ کا پختہ ارادہ کرلیا (یا ابتی، دع ھذا۔ فان فیہ سفک وماء المسلمین ووقوع الاختلاف بینھم قلم یقبل منہ ذلک بل صحمم علی القتال) البدایہ والنھایہ229/7
دوسرے صحابہ کی روایت کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ مشوہ تھا۔ مگر حضرت علی غیر معمولی بہادر آدمی تھے اور اس بناپر ان کے اندر غالباً وہ صفت پیدا ہوگئی تھی جس کو بڑھاہوا اعتماد (Over Confidence)کہا جاتا ہے۔