Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25مئی1996
ایک عربی اخبار میں دو عرب دانشور (دکتور عبدالصبور مرزوق، دکتور احمد صدقی الدجانی) کا انٹرویو ہواتھا۔ اس کا عنوان تھا: ھلی للمسلمین مستقبل بین الاھم الاخری، (دوسری قوموں کے درمیان کیا مسلمانوں کا بھی کوئی مستقبل ہے)مگرمجھے انٹرویو پڑھنے کے بعد سوائے کنفیوژن کے کچھ اور حاصل نہیں ہوتا۔
دنیا بھر میں مسلمانوں کے جرائد ہیں روزانہ اس قسم کے مضامین چھپتے رہتے ہیں۔ میں سمجھتاہوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں کی اصل غلطی یہ ہے کہ وہ مستقبل سے سیاسی مستقبل مراد لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک فلسطین، بوسنیا، چیچنیا، کشمیر وغیرہ میں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم نہ ہوجائے اس وقت تک مسلمانوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ اسلام اور انسان دونوں کی تصفیر ہے۔ اسلام اورانسان دونوں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ ان کی عظمت کو سیاسی اقتدار ہی محدود کیاجاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اقتدار اگر ایک فی صد ہے تو بقیہ چیزیں99فیصد۔
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ یہاں مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل نہیں۔ مگر مجھے یہ بات سراسر اضافی معلوم ہوتی ہے۔ میں ہندوستان میں اپنے آپ کو مکمل طور پر آزاد محسوس کرتا ہوں مجھے اگر کسی کمی کا احساس ہوتا ہے تو وہ تمام تر داخلی پہلو کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ خارجی پہلو کے اعتبار سے۔