Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
18فروری1996
آج رمضان کی28تاریخ تھی۔ رمضان شروع ہوا تو میں نے ارن شری سے ٹیلی فون پر کہا کہ میری خواہش ہے کہ ایک روز آپ میرے ساتھ افطار میں شریک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو میرے آنر کی بات ہے۔ اس کے مطابق آج شام کو وہ ہمارے ساتھ افطار میں شریک ہوئے۔
دہلی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان کو اس کی خبر دیتے ہوئے ان سے درخواست کی گئی کہ وہ بھی آج شام کو ہمارے ساتھ افطار کریں۔ انہوں نے جواب دیا کہ ارون شوری تو ایک اسلام دشمن آدمی ہے۔ ہمارے اور اس کے درمیان نور مشرک کی ہے کہ ہم اس کے ساتھ بیٹھ کر کھائیں۔
یہ ایک سطحی سوچ ہے اور اس سوچ نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر انسان ایک ہی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا نور مشترک ہے جو ہمارے اور ہرانسان کے درمیان غیر متفیر طور پر موجود ہے۔ یہی نور مشترک دعوت و تبلیغ کی اساس ہے۔ اور اس کا نتیجہ ہے کہ تاریخ میں ہم بے شمار ایسے افراد کو دیکھتے ہیں اپنے اسلام کے مخالف تھے اور اس کے بعد وہ درگاہ کے خادم بن گئے۔