Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
16اپریل1996
اگر کہا جائے کہ اصحاب ابن مسعود یا اصحاب ابوحنیفہ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ لوگ جنہوں نے ابن مسعود کو کبھی دیکھا تھا یا ابوحنیفہ پر ایک بار ان کی نظر پڑگئی تھی۔ اس سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے قابل لحاظ مدت تک ان بزرگوں کی صحبت اٹھائی ہو۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ’’اصحاب رسول‘‘ کا لفظ بولتے ہی یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ صبر وہ شخص جس نے ایمان لانے کے بعد ایک بار رسول اللہ کو دیکھ لیا ہو۔
اس معاملہ میں حضرت انس بن مالک کی ایک روایت قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ شعبہ نے موسی سبلانی سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک سے پوچھا۔ کیا رسول اللہ کے اصحاب میں کوئی شخص آپ کے سوا بھی باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اعراب میں سے کچھ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو دیکھا تھا۔ مگر وہ جو آپ کی صحبت میں رہا ہو تو ایسا شخص اب کوئی نہیں (قلت لانس بن مالک۔ ھل بقی من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد غیرک۔ قال ناس من الاعراب راوہ۔ فامامن صحبہ فلا) الباعث الحثیث لابن کثیر، صفحہ180
یہ نہایت سائنٹفک تقسیم ہے۔ اس کے مطابق، رسول اللہ کے معاصر مسلمانوں میں ایک گروہ صرف دیکھنے والوں کا ہے۔ اور دوسرا باقاعدہ صحبت اٹھانے والوں کا۔ قانونی طور پر دونوں کو صحابی کہا جاسکتا ہے۔ مگر حقیقی معنوں میں صحابی صرف وہ ہے جو دوسرے گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔