Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30می1996
میں نے اپنی کتاب ’’شیخ رسول کا سکہ‘‘ مولانا سعید احمد پالنپوری کو پڑھنے کے لیے دی تھی جو کہ دارالاسلام دیوبند کے بڑے اساتذہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس کو پڑھنے کے بعد اس پر تحریری تبصرہ کیا۔ پھر یہ تحریر اور کتاب مولانا محمد عرفان سردھنوی قاسمی کو دی گئی۔ وہ میرٹھ کے مدرسہ میں حدیث کے استاد ہیں۔ انہوں نے میرے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئےاپنے تبصرہ میں لکھا ہے:
’’مولانا سعید احمد پالنپوری اپنے تبصرہ میں فرماتے ہیں کہ شاتم رسول کی سزا کے سلسلہ میں مصنف نے جو کچھ لکھا ہے وہ من وجہ صحیح ہے اور من وجہ قابل غور ہے۔ مولانا پالنپوری کا یہ جملہ احمقانہ حد تک لغو ہے۔ اس کی لغویت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ شریعت کا واضح سے واضح حکم بھی ایسا نہیں ہے جس پر ان کا یہ جملہ صادق نہ آتاہو۔ مثلاً کوئی شخص کہے کہ اسلام میں جھوٹ بولنا حرام ہے۔ اس پر بھی یہ جملہ صادق آئے گا۔ یعنی کہا جاسکتا ہے کہ یہ مسئلہ من وحہ صحیح ہے اور من وجہ قابل غور ہے۔ کیوں کہ بعض موقعوں پر شریعت نے جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے۔ مثلاً دو شخصوں میں صلح کرانے کے لیے یا زوجین میں معتدل تعلقات بنائے رکھنے کے سلسلہ میں۔ غرض ہر حکم کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ من وجہ صحیح اور من وجہ قابل غور ہے۔ مولانا سعید پالنپوری کے بارے میں میرا چاھا تاثر تھا۔ لیکن ان کے سات صفحہ کے اس تبصرہ کو دیکھ کر صدمہ پہنچا۔ تبصرہ پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں یہ جملہ آیا کہ فقہی میدان کا ہیرو دعوتی میدان میں زیرو نظر آرہا ہے۔‘‘