Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
9نومبر1996
دہلی کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے میں نے کہا کہ ایک بڑے ملک کا شہری بننا اس سے زیادہ اہم ہے کہ آپ ایک چھوٹے ملک کے وزیراعظم بن جائیں۔
To be citisen of a great country is for more important than to be a Prime Minister of a small country.
انہوں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ مگر یہ کسی ایک مسلمان کی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام ذہن ہے۔ دنیا بھر میں وہ بڑے ملک سے الگ ہوکر اپنا ایک چھوٹا سیاسی جزیرہ بنانے کے لیے لڑرہے ہیں۔ کشمیر، بوسنیا، فلپائن، برما، ارپڑیا وغیرہ۔ سب کی سب اس کی مثالیں ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہزاروں سال سے انسان صرف ایک ہی چیز کو اہم سمجھتا چلا آرہا تھا۔ اور وہ حکومت ہے۔ مگر موجودہ صنعتی انقلاب نے ایک نئی زیادہ بڑی چیز پیتدا کی ہے اور وہ نئے مواقع (Opportunities)ہیں جو سیاسی ادارہ کے مقابلہ میں ہزاروں گنا زیادہ وسیع اور اہم ہیں۔ جدید دور نے یہ کیا کہ اس نے سیاسی ادارہ کو محدود کردیا اور دوسرے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرکے بے پناہ حد تک وسیع امکانات ہمارے لیے کھول دئے۔
امریکہ کی یہودی اقلیت نے امریکہ میں اس معاملہ کی نہایت شاندار مثال قائم کی ہے۔ مگر ساری دنیا کے مسلم ذہن چونکہ امریکی یہودیوں کے کیس و سازش کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں اس لیے وہ اس مثال سے کوئی سبق نہ لے سکے۔
بدقسمتی سے موجودہ زمانہ میں اٹھنے والے تمام مسلم رہنما جو اس جدید تبدیلی سے ناواقف ہیں۔ چنانچہ ہر رہنما نے صرف یہ کیا کہ قدیم ذہن کے تحت وہ مسلمانوں کو سیاست و حکومت کے نشانہ پر دوڑاتا رہا۔ کوئی بھی رہنما یہ نہ کرسکا کہ وہ مسلمانوں کو سیاست کے محدود خوبی سے نکال کر امکانات جدیدہ کی وسیع تر دنیا میں داخل کرے۔