Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
6اکتوبر1996
ایک صاحب نے جدہ کا عربی اخبار المسلمون (5ذی الحجہ1415ھ،5مئی1995)دیا۔ اس کے صفحہ3پر فلسطین کے بارے میں ایک طویل مضمون تھا۔ اس کی سرخی یہ تھی: القدس تستصرخ الامۃ الاسلامیۃ۔ یعنی قدس مسلم امت سے فریاد کرہا ہے۔ اس قسم کے مضامین ساری دنیا کے مسلم اخباروں اور مسلم میگزینوں میں چھپ رہے ہیں۔ تقریر کرنے والے اپنی تقریر وں میں اس قسم کے الفاظ جو مل رہے ہیں۔
میں حیران ہوں کہ یہ لکھنے اور بولنے والے جو قدس کی فریاد کو سن رہے ہیں۔ وہ خود اس پر لبیک کیوں نہیں کہتے۔ وہ دوسروں کے سامنے یہ فریاد کیوں پیش کررہے ہیں۔ اگر وہ جانتے ہیں کہ قدس فریاد کررہا ہے تو انہیں سب سے پہلے اس فریاد پر دوڑپڑنا چاہیے اور قدس پہنچ کر دشمنوں کے خلاف جہاد شروع کردینا چاہیے۔
حدیث میں آیا ہے کہ آخری زمانہ میں امانت (Honesty)اٹھالی جائے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وہی زمانہ آگیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے لوگ امانت سے خالی ہیں اس لیے وہ ایسی باتیں کررہے ہیں۔ اگر وہ سچ مچ امانت دار (Honest)ہوتے تو وہ کبھی ایسا نہ کرتے۔ میں ذاتی طور پر اس قسم کے کلام ہی کو لغو سمجھتا ہوں کہ ’’قدس فریاد کررہا ہے‘‘ مگر جو لوگ اس کو برحق سمجھتے ہیں وہ آخر کیوں لکھنے اور بولنے کو کافی کہتے ہیں۔