Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
28اگست1996
اسلام کی تاریخ میں جولوگ وضّا عین حدیث کہے جاتے ہیں۔ وہ دو قسم کے ہوتے تھے۔ ایک وہ جو بالکل فرضی حدیثیں گھڑکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیتے تھے۔ دوسرے وہ جو صحیح حدیثوں کو بدل کر اور بگاڑکر پیش کرتے تھے۔ ایسی دوسری قسم کے وضّا عین کے بارے میں امام زہری (م124ھ) نے کہا تھا: یخرج شیرا فیر جع الینا ذراعاً۔ یعنی ہماری طرف سے اگر کوئی حدیث بامشق برابر ہوتی ہے تو ان کے پاس جاکر وہ ایک ہاتھ کے برابر ہوجاتی ہے۔
موجودہ زمانہ کی اخباری رپورٹیں (خاص طور پر اردواخبارات کی) مکمل طور پر اس کی مصداق ہیں۔ وہ کبھی بالکل بے اصل باتیں چھاپتے ہیں اور کبھی معمولی بات کو بڑھا چڑھا کر کچھ سے کچھ بنادیتے ہیں۔