Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
10فروری1996
احادیث میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ضمنی حکم بتاتے ہوئے ایک اصولی حکم بیان کردیا جاتا ہے۔ آج صحیح مسلم (کتاب البیوع) پڑھ رہا تھا۔اس میں ہر قسم کی ایک مثال نظر آئی۔ اس روایات میں بیع وشراء کا ایک حکم بتاتے ہوئے یہ جملہ ہے: دَعُوا الناس یرزُقِ اللہ بعضھم من البعضی (صحیح مسلم بشرح النوری165/10)
’’لوگوں کو چھوڑدو کہ اللہ ایک کو دوسرے سے رزق دے‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ رزق کے فطری نظام کو باقی رہنے دو۔ اپنے دوساختہ نظریات کی بناپر اس کودرہم برہم نہ کرو۔ موجودہ زمانہ میں سوویت یونین میں اور آزادی کے بعد ہندوستان میں خودساختہ نظریات کے تحت نیا اقتصادی نظام جاری کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں ملک تباہ ہوگئے۔ اور آخر کار دونوں ملک کے مصنوعی اقتصادی نظام کو توڑ دینا پڑا۔