Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14جولائی1996
مولانا انیس لقمان ندوی مالیگانوی اکتوبر1989میں ادارۂ الرسالہ سے وابستہ ہوئے تھے۔ اس کے بعد جنوری1996میں ایک اسکول کی طرف سے پیش کس ملنے پر وہ ابوظہی چلے گئے۔ جب وہ دہلی میں تھے تو میں نے ایک سے زیادہ بار ان سے کہا کہ آپ ماشاء اللہ اچھی صلاحیت کے مالک ہیں۔ مگر آپ کے اندر ایک کمزوری ہے۔ اور وہ بڑھی ہوئی خود اعتمادی (Over-Confidence)ہے۔ مگر میرا احساس ہے کہ میری اس نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اب چھ مہینہ ابوظہی میں رہ کر وہ تعطیل پر آئے اور چند دن ان سے ملاقاتیں رہیں تو اندازہ ہوا کہ باہر کے تجربات کے باوجود ان کے اندر اس پہلو سے کوئی فرق نہیں آیا۔
بیرونی قیام سے متعلق انہوں نے کئی ایسے قصے بتائے جس میں واضح طور پر ان کی اس کمزوری کی جھلک موجود تھی۔ مثلاً ابوظہی میں ایک تعلیم یافتہ مصری ڈاکٹر ابراہیم ابومحمد ہیں۔ ان کی ایک کتاب کا نام دعوۃ الی التفکیر ہے۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ آسٹریلیا کے ایک صاحب نے کیا اور اس کا ٹائٹل (An invitation to think)رکھا۔ مذکورہ مصری نے اپنی یہ کتاب مولانا انیس لقمان ندوی کو دی تو انہوں نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کتاب کا یہ نام انگریزی ذوق کے بالکل خلاف ہے۔ اس کا صحیح نام ہوناچاہیے:A Call to think
یہ صرف مولانا انیس لقمان ندوی کی مذکورہ کمزوری کا ایک مظاہرہ تھا۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ کتاب (دعوۃ الی التفکیر) کا یہ نام بالکل درست ہے۔ اور وہ انگریزی ذوق اور انگریزی زبان کے عین مطابق ہے۔
اس واقعہ پر کئی مہینے گزرچکے ہیں۔ مگر جہاں تک میرا اندازہ ہے، اس مدت میں انہوں نے کسی انگریزی داں سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا۔ بڑھی ہوئی خوداعتمادی کا سب بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی شعوری یا غیرشعوری طور پر ’’میں جانتا ہوں‘‘ کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اپنی اس نفسیات کی بناپر وہ دوسروں سے معلوم کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اس طرح یہ نفسیات آدمی کی ذہنی ترقی میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔