Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15جولائی1996
ایک صاحب نے سوال کیا کہ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے۔ اس کو مثال کے ذریعہ سمجھائیے۔ میں نے کہا کہ آپ ایک تعلیم یافتہ آدمی نہیں۔ اس لیے میں آپ کے سامنے ایک عملی مثال دیتا ہوں۔
میں نے کہا کہ تنقید کے معاملہ کو لیجئے۔ ناقد دوقسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ ناقد جو اپنی انا (Ego)یا اپنی برتری کی تسکین کے لیے دوسروں کے اوپر تنقید کرتا ہے۔ اور دوسرا ناقد وہ ہے جو احقاق حق اور ابطالی باطل کے لیے تنقید کرتا ہے۔ چونکہ دونوں کی نیت (Intention)الگ الگ ہے۔ اس لیے دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہوجاتا ہے کہ اول الذکر ناقد کے اوپر خدا کا غضب بھڑکتا ہے اور ثانی الذکر ناقد پر خدا کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
انہوں نے دوبارہ پوچھا کہ کیا دونوں قسم کے ناقد میں کوئی ظاہری فرق ہے جس سے دونوں کو الگ الگ پہچانا جاسکے۔ میں نے کہا ہاں۔ وہ فرق یہ ہے کہ پہلی قسم کے ناقد کے سامنے اصل چیز حق کو ثابت (Establish)کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ جس طرح دوسروں کے خلاف تنقید کرتا ہے اس طرح یکساں درجہ میں وہ خود اپنے خلاف بھی تنقید کو سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔ کیوں کہ اس کے سامنے اصل مسئلہ حق کا اثبات ہوتا ہے نہ کہ اپنی ذات کا اثبات۔ اس کے برعکس دوسری قسم کا نقد دوسروں کے اوپر تنقید کرنے میں تو بہت پرجوش ہوتا ہے۔ مگر اس کی اپنی ذات پر کوئی تنقید کی جائے تو وہ یاتو برہم ہوجائے گا یا تاویل کرکے اس کو نظرانداز کردے گا۔ کیونکہ یہاں اس کی اپنی ذات ردہورہی تھی اور اپنی ذات کا رد ہونا اس کو کسی حال میں منظور نہیں۔