Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
2ستمبر1996
کراچی کے ماہنامہ الفاروق (ربیع الثانی1417ھ) میں’’گستاخ رسول کی شرعی سزا‘‘ کے عنوان سے ایک مقالہ شائع ہوا ہے۔ اس میں زوروشور کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ جو آدمی رسول اللہ کی شان میں گستاخی کرے وہ کسی حال میں بھی قابل معافی نہیں۔ وہ ضرور قتل کیا جائے گا۔ آخر میں ’’ایک اعتراض اور اس کا جواب‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:
’’اب ایک اعتراض باقی رہ جاتا ہے کہ اگر توہین رسالت کا مرتکب، گستاخ رسول مباح الدم اور واجب القتل ہے تو عہد نبوی میں منافقین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تنقیص کی۔ آپ کی شان میں نازیباواہانت انگیز الفاظ استعمال کئے اور مریح توہین کی۔ پھر بھی صحابہ کرام کے عرض کرنے اور اجازت طلب کرنے کے باوجود کہ اے اللہ کے رسول، اگر آپ ہمیں حکم دیں تو ہم اس کا سر تن سے جدا کردیں۔ مگر آپ نے اجازت نہ دی‘‘۔ صفحہ25
اس کے بعد علامہ اپنی تیمیہ کے حوالہ سے اس کی متعدد وجوہات بیان کی ہیں۔ ایک یہ ہے کہ’’ منافقین کے ارتکاب توہین کے موقع پر صحابہ کرام کا نبی اکرمؐ سے ان کے قتل کی اجازت طلب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام جانتے تھے کہ توہین رسالت کے مرتکب کی سزا قتل ہے‘‘۔ صفحہ25
یہ سراسر ایک غیر علمی جواب ہے۔ بدقسمتی سے بعد کے دور میں پیدا ہونے والا تمام لٹریچر اس قسم کی غیر علمی باتوں سے بھراہوا ہے۔