Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
7جون1996
المامون الجاسی (170-218ھ) خلیفہ ہارون الرشید کا لڑکا تھا۔ اس کی سلطنت کا زمانہ عیسائی سلطنت کا ممتاز زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اندر عفو کا مزاج بہت زیادہ تھا۔ اس نے اپنے چچا ابراہیم بن اطہری کو معاف کردیا جس نے اس کے خلاف بغاوت کی تھی جب کہ وہ بغداد سے باہر تھا۔ وہ اپنے بارے میں کہتا تھا کہ لوگ اگر یہ جانیں کہ معاف کرنا میرے لیے کتنا زیادہ لذید ہے تو وہ میرے پاس ہمیشہ جرم کرتے آئیں۔ (لوعلم الناس مالی فی لذۃ العفو ماتقربوا الی الا بالجرائم) سراج الملوک161
اس کو میں نے پڑھا تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ المامون تو ایک مخلوق تھا۔ جب ایک مخلوق کے اندر عضوکی یہ غیر معمولی صفت ہے تو خود خالق کے اندر یہ صفت کتنی زیادہ ہوگی۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ خدا ایک ایسے انسان کو معاف نہیں کرے گا جو سراپا عجز کے ساتھ اس سے معافی کی التجا کررہا ہو۔ وہ ایک ایسے شخص کو جہنم کی آگ میں ڈال دے گا جس کا حال یہ ہو کہ اسی دنیا میں جہنم کے تصور سےاس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور وہ گریہ وزاری کے ساتھ پکاراٹھا کہ خدایا، مجھ کو جہنم کی آگ سے بچالیجئے۔ کہوں کہ میرے اندر جہنم کی سختی کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔