Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
19جولائی1996
آج ٹائمس آف انڈیا میں لندن کی ڈیٹ لائن کے ساتھ سلمان رشدی کے بارے میں ایک باتصویر خبر چھپی ہے۔ اس میں رشدی کو ہنستے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ خبر یہ ہے کہ رشدی نے ایک نئی ناول لکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کتاب1999میں چھپ سکے گی۔ مگر امریکہ کے ایک بڑے پبلشر (Random House)نے حقوق طبع کے لیے پیشگی طور پر سلمان رشدی کو ایک ملین پونڈ کی رقم دیدی ہے۔ رشدی کی کتاب سیٹنگ ورسز کے خلاف مسلمانوں نے جو شوروغل کیا۔ اس نے اس کو غیر معمولی شہرت دیدی۔ چنانچہ اس کتاب کے چار ملین نسخے فروخت ہوگئے۔ یہ تعداد اس کی دوسری کتاب (Midnight's Children)کے مقابلہ میں دوگنازیادہ ہے۔ مسلمانوں نے اپنی نادانی سے سلمان رشدی کو لٹرری دنیا کا ہیرو بنادیا۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ سلمان رشدی کی کتابیں بیسٹ سیلر(Best Sellers)بنی ہوئی ہیں۔1989میں امام خمینی نے رشدی کے قتل کا فتویٰ دیا تھا۔ اس وقت سے اب تک سلمان رشدی پانچ ملین پونڈ اپنی کتابوں سے کما چکا ہے۔
ان احمقانہ فتووں اور احمقانہ ہنگاموں کا نام اہل اسلام کا تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ غیر اسلام آخر کس چیز کا نام ہوگا۔