Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20جولائی1996
لیظھرہ علی الدین کلہ کی آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں: وکفی باللہ شمیہاج۔ یہ جزء بے حد اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’اظہار‘‘ کا یہ عمل مکمل طور پر ایک خدائی منصوبہ تھا اور وہ براہ راست خدا کی نگرانی کے تحت اپنی تکمیل تک پہنچا۔
اس دنیا میں کوئی برا واقعہ رونما کرنے کے لیے غیب کا علم انتہائی طور پر ضروری ہے۔ غیب کے علم کے بغیر یہاں کوئی نتیجہ خیز منصوبہ بندی ممکن نہیں۔ اور غیب کا علم خدا کے سوا اور کسی کو نہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حاجرہ کو صحرائے حجاز میں بسانے سے لے کر عمرفاروق کی خلافت تک ایک طویل منصوبہ تھا جو براہ راست خدا کی نگرانی کے تحت انجام پایا۔ اس مدت میں مسلسل داخلی اور خارجی سطح پر ایسے اسباب پیدا کئے جاتے رہے جو مطلوب نتیجہ کو یقینی بنا سکیں۔
حضرت ابراہیم کی وفات کی نحمینی تاریخ1985ق م ہے۔ اور حضرت عمر کی وفات کی معلوم تاریخ644ء ہے۔ اب اگر فرض کیا جائے تو ہاجرھ اور اسماعیل کو2000ق م کے لگ بھگ زمانہ میں صحراسے حجاز میں بسایا گیا تھا تو حاجرہ کے تاریخی عمل کے آغاز اور عمر فاروق کے تاریخی کردار کی تکمیل کے درمیان تقریباً2650سال کی مدت قرار پاتی ہے۔ یہ پوری مدت کفی باللہ شہدا کی تفسیر ہے۔