Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
7مارچ1996
علی بن محمد بن حبیب الماوروی 364ھ میں بصرہ میں پیدا ہوئے۔450ھ میں بغداد میں وفات پائی۔ ان کا شمار محقق علماء میں ہوتا ہے۔ وہ خلفا، عباسی سے بہت قریب تھے۔ القائم بامراللہ کے زمانہ میں وہ بلاداسلامی کے سب سے بڑے قاضی تھے۔ سیاسی موضوعات پر ان کی کئی کتابیں ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب ادب الدنیا والدین (صفحہ78)میں لکھا ہے کہ جس دین کی حکومت ذائل ہوجائے اس کے احکام بھی بدل جائیں گے اور اس کے نشانات مٹادئے جائیں گے (فلیس دین ذال سلطانہ الابدلت احکامہ و ظمست اعلامہ)
دوراقتدار میں مسلمانوں نے جو کتابیں لکھی ان میں اکثر مختلف الفاظ میں اس قسم کی باتیں ملتی ہیں۔ دور قدیم میں ان باتوں کی کچھ اہمیت ہوسکتی تھی۔ مگر دورجدید میں حکومت کا دور کا بہت محدود ہوگیا ہے۔ چنانچہ آج حکومت کو شہنشاہ بہت کے بجائے صرف انتظامیہ (ایڈمنسٹریشن) کہا جاتا ہے۔ میرا احساس ہے کہ موجودہ زمانہ کے کسی بھی عالم یا دانشور یا مفکر نے اس فرق کو نہیں سمجھا۔ چنانچہ ہر ایک ماورای جیسی باتوں کو دہرادیا ہے۔ اس بے خبری کا یہ عظیم نقصان ہے کہ جدید مواقع کو اسلام کے حق میں استعمال نہ کیا جاسکا۔