Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
21مئی1996
ملک کے سیاسی مسئلہ کے بارے میں میرا ایک بیان 15-14مئی کے اکثر اخبارات میں چھپاتھا۔ اس کو پڑھ کر ایک صاحب کا مراسلہ قومی آواز (21مئی) میں چھپا ہے۔ مراسلہ نگار لکھتے ہیں: مورخہ15مئی کے اخبار میں مولانا وحید الدین خاں کا بیان نظر سے گزرا۔ اس کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مولانا موصوف نے یہ بیان صرف اپنا نام اخبار میں چھپوانے کے لیے داغ دیا (اقبال مسعود فاروقی، دہلی یونیورسٹی کیمپس، دہلی)
یہ مراسلہ پڑھنے کے بعد میں نے ایک صاحب سے کہا کہ سطحی سوچ والا انسان کبھی بھی بلند سوچ والے انسان کو سمجھ نہیں سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے اخباروں میں چھپنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مگر میں روزانہ بہت سے اخبارات پڑھتا ہوں۔ یہ زیادہ تر انگریزی اخبارات ہوتے ہیں۔ ان میں ہر روز قومی اور ملکی مسائل پر مضامین چھپتے ہیں۔ مگر تقریباً تمام مضامین غیر واضح ہوتے ہیں۔ ان کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگ اپنے ذہنی کنفیوژن کو کاغذ کے صفحات پر انڈیل رہے ہیں۔ ایسی حالت میں بالکل فطری ہے کہ پڑھنے والوں کو کوئی متعین رہنمائی نہ ہو۔
اس کو دیکھ کر مجھے شدید غم ہوتا ہے کہ صحافت کی صفت پر اربوں روپیہ خرچ ہوتا ہے اور لوگوں کو ایجوکیٹ کرنے کا مقصد اس سے حاصل نہیں ہوتا۔ یہی غم ہے جو کچھ لکھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اور اسی بناپر اخبار والے برابر مجھ سے مضامین مانگتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ کے مضامین میں وضح (Clarity)ہوتی ہے اور دوسروں کے یہاں نہیں ہوتی۔