Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
9جولائی1996
فجر کی نماز میں امام صاحب (قریشی مسجد) نے سورہ النسا تلاوت کی۔ یہ سورہ مکی ہے۔ اور اس میں پہاروں کا دکر ہے۔ رات دن کے نظام کا اور سورج اور آسمان کا ذکر ہے۔ بارش اور غلہ اور سبزی اور باغ کے تذکرے ہیں۔ ان آیتوں کو سن کر میرے دل میں آیا کہ کیسا عجیب ہے کہ صحرامیں بسنے والوں کو سربزوشاداب دنیا کی باتیں بتائی جارہی ہیں۔ ذیلی ماحول میں رہنے والوں کو آسمانی حقائق یاد دلائے جارہے ہیں۔ میرے دل نے کہا کہ یہ گویا اس بات کا پیغام ہے کہ تم صحرائی، ماحول میں ہو تب بھی اپنی فکر کو زراعت اور باغبانی کے ماحول تک وسیع کرو۔ تم زمین پر آباد ہو تب بھی خلائی حقائق پر غورکرو۔ تم رات اور دن کے محدود تجربہ میں جی رہے ہو تب بھی اپنی سوچ کو نظام شمسی کی وسعتوں تک لے جاؤ۔
قرآن کا یہ پیغام کتنا زیادہ انقلابی ہے۔ دوراول کے مسلمان براہ راست قرآن کو سمجھ سکتے تھے، ان کے اندر قرآن کے اس پیغام نے عظیم انقلاب پیدا کردیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان بغیر کہے ہوئے صرف تبرک کے طور پر قرآن کو پڑھتے اور سنتے ہیں۔ دور اول کے مسلمانوں کو قرآن سے معانی مل رہے تھے اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو صرف الفاظ مل رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ دونوں کا معاملہ یکساں نہیں ہوسکتا۔