Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5اکتوبر1996
روایات میں آتا ہے کہ مدینہ میںجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو عرب کے بیشتر لوگ اسلام سے پھر گئے(لما قدخّی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارتدّت العرب) النسائی، کتاب الجھاد۔
اب غور کیجئے کہ اگر ارھم شوری بینم (الشوری) پر عمل کیا جاتا اور رسول اللہ کی وفات کے بعد بالغ رائے دہی کی بنیاد پر سارے عرب سے یہ رائے لی جاتی کہ کون خلیفہ ہو تو اس کا انجام کیا ہوتا۔ تقریباً یقینی ہے کہ ابوبکر و عمر کا انتخاب نہ ہوتا بلکہ سوئی سیّاس لیڈر غلام پسند نعرہ استعمال کرکے خلیفہ منتخب ہوجاتا۔ اور پھر اسلام کی تاریخ اس سے محتلف ہوتی جو خلافت راشدہ کے تحت بنی۔
حقیقت یہ ہے کہ عوام کو بنیاد بناکر کبھی بھی کوئی صالح کام نہیں کیاجاسکتا۔ موجودہ زمانہ میں پاکستان اور ایران اور الجزائر جیسے ملک میں بظاہر اسلام کے نام پر عوامی رائے ہموار کی گئی ۔ مگر حقیقۃً ایسا نہیں ہے۔ اس قسم کے تمام ملک میں عوامی بھٹی وقت کے اقتدار کے ’’مظالم‘‘ کو بیان کرکے حاصل کی گئی تھی نہ کہ خوف خدا اور فکر آخرت کی بنیاد پر۔