Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
2اکتوبر1996
دہلی کے ایل جرنلسٹ مسٹر نسیم نقوی (Tel: 3547739)نے مسٹر خوشونت سنگھ کا ایک قصہ بتایا۔ جس زمانہ میں وہ ہندوستان ٹائمس کے ایڈیٹر تھے۔ ایک بار وہ اپنی گاڑی سے کہیں جانے کے لیے نکلے۔ راستہ میں ان کی گاڑی خراب ہوگئی۔ ان کو فوراً پہنچنا تھا۔ چنانچہ اپنی گاڑی درمیان میں چھوڑکر انہوں نے ایک ٹیکسی کرایہ پر لی۔ ٹیکسی ڈرائیورایک سردار تھا۔ اس سے گفتگو ہونے لگی۔ گفتگو کے دوران ٹیکسی ڈرائیور نے پوچھا کہ کیا کام کرتے ہو۔ خوشونت سنگھ نے پوچھا کہ کیا تم برلا کو جانتے ہو۔ ڈرائیور نے کہا کہ ہاں۔ خوشونت سنگھ نے بتایا کہ میں برلا کے یہاں نوکری کرتا ہوں۔ یہ سن کر ٹیکسی ڈرائیور نے کہا کہ اگر میں برلا ہوتا تو میں برلا سے زیادہ مال دار ہوتا۔ خوشونت سنگھ نے پوچھا کہ وہ کیسے۔ ڈرائیور نے کہا کہ برلا کی جو دولت ہے وہ تو میرے پاس اپنے آپ ہوتی۔ اس کے ساتھ میں ٹیکسی بھی چلاتا۔ اس طرح میری آمدنی برلا سے بڑھ جاتی۔
یہ واقعہ اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ آدمی اپنے خول سے باہر آکر سوچ نہیں پاتا۔ مذکورہ ٹیکسی ڈرائیور برلا کو جانتا تھا۔ مگر اس وقت بھی وہ ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ اگرچہ وہ زبان سے برلا کی بات کرتا تھا مگر اس کی سوچ بدستور ٹیکسی ڈرائیور کی سطح پر کام کررہی تھی نہ کہ برلا جیسے دولت مند کی سطح پر۔