Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
21اپریل1996
المجلۃ (جدہ) کے شمارہ20-14اپریل1996میں افغانستان کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس میں کابل کی تصویریں ہیں جس میں قابل کھنڈروں کا ایک شہر دکھائی دیتا ہے۔ اس کی سرخی کے الفاظ یہ ہیں: کابول، مدینۃ قتلھا اھلھا (کابل ایک شہر جس کو خود اس کے باشندوں نے ہلاک کرڈالا)
مضمون نگارنے افغانستان کا دورہ کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اصل مشکل یہ ہے کہ یہ جنگ اور یہ متحارب گروہ بظاہر تو اسلام کا جھنڈا بلند کرتے ہیں۔ مگر اس کی گہری جڑیں اصل میں قبائلی نزاعات ہیں جو جنگ کو بھڑکارہے ہیں، اگرچہ ہر جتھا اس کا انکار کرتا ہے۔ (المشکلۃ ان ھذہ الحرب وھذہ الفصائل توفع رایۃ الاسلام ولکن الصراع فی حقیقتہ لہ جذور عمیقۃ فی النزاعات القبلیۃ التی تؤجج الحرب وغم انکار جمیع الضات ھذا الواقع) صفحہ32-30
یہ بات میں نے بہت پہلے جان لی تھی کہ افغانستان کی لڑائی جہاد نہیں ہے بلکہ محض قبائلی جنگ ہے (الرسالہ مارچ1989)مگر ہمارے دانشوروں نے اس حقیقت کو اس وقت جانا جب کہ سب کچھ تباہ ہوچکا تھا۔