Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
9دسمبر1996
بمبئی سے ایک صاحب آئے۔ ان کا نام عارف لکڑوالا ہے۔ وہ ایک تاجر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں صرف آپ سے ملنے کے لیے دہلی آیا ہوں۔ میرے کچھ سوالات ہیں۔ بمبئی میں بعض افراد نے کہا کہ ان سوالات کا جواب صرف آپ دے سکتے ہیں اس لیے میں صرف آپ سے ملنے کے لیے دہلی آیا ہوں۔
ان کے سوالات سب الجھن والے سوالات تھے۔ ہر بات پر انہیں شک رہتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میرے ذہن میں ایسے خیالات آتے رہتے ہیں جن کو اپنی زبان سے میں ادا نہیں کرسکتا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کو میری سب سے پہلی نصیحت یہ ہے کہ آپ دو چیزوں میں فرق کو جانئے۔ سوچنا بہت اچھی بات ہے مگر سوچنے کی دوقسمیں ہیں۔ ایک ہے صحیح تفکر (Right thinking)اور دوسری چیز ہے ذہن انتشار (Confused thinking)جس دن آپ اس فرق کو سمجھ لیں گے آپ کا بیشتر مسئلہ اپنے آپ حل ہوجائے گا۔
اس فرق کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ تاہم اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت کو جانے۔ محدودیت کو جان کر جو تفکیر کی جاتی ہے وہ آدمی کو صحیح تفکیر کی طرف سے جاتی ہے اور اپنی محدودیت کا لحاظ کئے بغیر جو تفکیر کی جائے اس کا نام غلط تفکیر ہے۔