Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
13دسمبر1996
بھوپال کے ایک نوجوان دہلی آئے۔ وہ وہاں کے حلقہ الرسالہ سے وابستہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اب میں حلقہ الرسالہ سے قطع تعلق کرلیا ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ وہیں حلقۂ الرسالہ کے جو صدر ہیں وہ بہت سخت ہیں۔ اکثر وہ لوگوں کو ڈانٹ دیا کرتے تھے ان کے بیان کے مطابق بھوپال کے کئی افرادموصوف کی ڈانٹ ڈپٹ سے برگستہ ہوگئے میں نے پوچھا کہ بھوپال میں جو لیا حلقہ الرسالہ کے صدر ہیں ان کو آپ آپ مخلص مانتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ ان کے اخلاص کا تو سبھی لوگ افراد کرتے ہیں۔ میں گیا جب آپ ان کو مخلص مانتے ہیں تو ان کی ڈانٹ ڈپٹ آپ کو نظر انداز کرنا چاہیے۔
پھر میں نے کہا کہ اسلامی مشن کو چلانے کے لیے ہرناگزیر بات کو بھی صبر کرنا پڑا۔ یہ صحیح ہے کہ پیغمبر اپنے ساتھیوں کو ڈانٹےنہیں تھے۔ مگر ڈانٹ بہت زیادہ بری چیز پر انہیں ہرگز روکا۔ اور وہ ہے زحالفین کی زیادتیائی میں زبان کرنا۔ بے عزت کرنا بائیکاٹ کرنا۔ مار پیٹ کرنا ، خود اپنے وطن میں رہنے کو نا ممکن بنا دے، نماز چاہیے بے ضرر عمل کرنے کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنا وغیرہ۔ اصحاب رسول نے اس قسم کی انتہائی سخت زیادتیوں کو مسلسل برداشت کیا جو یقینی طور پر ڈانٹ ڈپٹ سے ہیں زیادہ شدید تھی۔ میری بات سن کر وہ مسٹر عشد وے ہئے اور کہا کہ اب میں واپس جاکر آپ کی نصیحت کے مطابق عمل کروں گا۔