Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27اگست1996
دیوبند کے ایک فاضل تشریف لائے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا صبر ایک عبادت ہے، اس کا اجروثواب بہت زیادہ ہے۔ مگر ہمارے مدرسوں میں اور ہمارے جلسوں میں یہ بات بتائی نہیں جاتی۔ انہوں نے تردید کی اور کہا کہ صبر کے بارے میں تو سبھی لوگ بتاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس عالم کا نام بتائے جس نے ایسا کہا یا لکھا ہو۔ انہوں نے کہا کہ فلاں صاحب کو دیکھئے، وہ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں ہم کو صبروتحمل کے ساتھ رہنا چاہیے۔
میں نے کہا کہ یہ تو ایک مجبورانہ عمل کی بات ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق، صبر کوئی مجبوری نہیں ہے، وہ ایک اعلیٰ درجہ کا مثبت عمل ہے۔ وہ نماز کی طرح ایک عبادتی فعل ہے اس لیے قرآن میں صبر اور نماز کا ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے(استعینوا بالصبروالصلاۃ)
موجودہ زمانہ کے مسلمان صبر کو ایک بزدلی اور پسپائی اور شکست خوردگی کی بات سمجھتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے سامنے صبر کو ایک اعلیٰ عبادتی اور اخلاقی عمل کے طور پر پیش ہیں نہیں کیا گیا۔