Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
3نومبر1996
حیدرآباد کے حالیہ سفر میں حبیب بھائی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مدرٹریسا کی بہت تعریف کی۔ ان کی گفتگو کاخلاصہ یہ تھا کہ وہ مدرٹریسا کو اپنے لیے ایک رول ماڈل سمجھتے ہیں اور جلد ہی اس انداز پر سماجی خدمت کے کام کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔
میں نے اس کی تردید کی۔ اس سلسلہ میں میں نے انہیں بتایا کہ نبوت سے پہلے کے عرب میں عبداللہ بن حبدعان بھی مدرٹریسا جیسا ہی ایک کردار تھا۔ وہ ان کی خدمت کے لیے سارے عرب میں مشہور تھا۔ مگر اس کو ایمان کی توفیق نہ مل سکی۔ حضرت عائشہ نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آخرت میں کیا عبداللہ بن حدعان کی مغفرت ہوگی۔ آپ نے فرمایا کہ تمہیں کیوں کہ اس کی زبان سے کبھی نہیں نکلا کہ: رب اغفرلی خطیئتی یوم الدین (خدایا بدلہ کے دن میری غلطی کو معاف کردے)
پھر میں نے کہا کہ اس معاملہ کو آپ ایک ذاتی مثال سے نہایت آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں۔ آپ ایک پسندیدہ خاتون سے نکاح کرکے ان کو اپنے گھر میں لے آتے ہیں۔ وہ نہایت انسان دوست ہیں۔ گھر کی صفائی، مہمانوں کی تواضع، پڑوسیوں کی خدمت، ملازموں کی نگرانی، ہر کام بہت اچھی طرح انجام دیتی ہیں۔ مگر آپ سے انہیں کوئی قلبی تعلق نہیں۔ ان کی زندگی کا رخ آپ کی طرف نہ ہوکر بس خدمت خلق کی طرف ہے۔ کیا آپ ایسی بیوی کو پسند کریں گے۔ انہوں نہ کہا کہ ہرگز نہیں۔
حبیب بھائی نہایت ذہین آدمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بس میں سمجھ گیا۔ میں تقریباً5سال سے ایک زبردست قسم کی ذہنی گمراہی میں مبتلا تھا۔ آج اس معاملہ کو پوری طرح سمجھ گیا۔ اس قسم کا انسانی کام صرف ذرئی تسکین ہے۔ وہ خود پرستی ہے نہ کہ خودپرستی۔ اور خدا کی دنیا میں صرف خدا پرستی کی قیمت ہوسکتی ہے نہ کہ خود پرستی کی۔