Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
لا بدّ من قیام نظام اسلامی عالمی لمواجہۃ النظام العالی الجدید
یہ احمقانہ حد تک ایک ہوائی بات ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنے انتہائی زوال کی بناپر ایک محدود خطہ میں بھی کوئی نظام بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کجا کہ وہ عالمی سطح پر مغربی طاقتوں کے مقابلہ میں اپنا کوئی موثر نظام بنائیں۔ یہ بھی ان کے زوال کی علامت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا مزاج یہ بن گیا ہے کہ جو آدمی بڑے بڑے الفاظ بولے وہ ان کے درمیان مفکر اور قائد مان لیا جاتا ہے۔
یہی موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مسلمانوں کا مزاج ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں نے اقبال کو مفکر اعظم کا لقب دے رکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہوائی الفاظ بولنے کے بادشاہ تھے۔ مثلاً اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ دین کی حقیقت احتساب خویش ہے تو مسلمان اس کو مفکر اسلام کا لقب نہیں رہیں گے۔ مگر اقبال برصغیر ہند کے مسلمانوں کے درمیان مفکر اسلام بن گئے۔کیونکہ انہوں نے کہا: ہے حقیقت جس کے دین کی احتساب کائنات۔