Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27ستمبر1996
ایک ہندوستان جنہوں نے پہلے ایک عربی مدرسہ سے فراغت کی۔ پھر انہوں نے عربی سے ایم اے کیا اور پھر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اب ان کی عمر50سال ہوچکی ہے۔ وہ سعودی عرب کی ایک یونیورسٹی میں چند سال رہ کر واپس آئے ہیں۔ ان سے میں نے کہا کہ اپنی زندگی کا کوئی انوکھا تجربہ بتائیے۔
انہوں نے کہا کہ میں پہلے شروانی پہنتا تھا۔ مگر جب میں سعودی عرب پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ شروانی یا ہندوستانی لباس کو پسند نہیں کرتے۔ وہ یا توکوٹ پتلون کو پسنر کرتے ہیں یا عربی لباس کو چنانچہ میں نے عربی لباس اختیار کرلیا۔ مگر جب میں نے عربی لباس کے ساتھ سر پر رومال رکھا اور اس کے اوپر کالی عقال ڈالی تو معلوم ہوا کہ سعودی اس کو پسند نہیں کرتے کہ کوئی غیر سعودی عقال کا استعمال کرے۔ مثلاً ٹریفک پولس (مرور) اگر ایک سعودی کو کالی تھال پر دیکھے اور اس کو ٹریفک کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے تو اس کو نظر انداز کردیتا ہے۔ لیکن اگر آپ اپنے سر پر کالی عقال ڈالے ہوئے ہوں اور پولیس کو معلوم ہوجائے کہ آپ غیر سعودی ہیں تو وہ آپ کو سخت تنبیہ کرے گی۔ وہ کہے گی کہ تم یہ لباس پہن کر ہم کو دھوکا دینا چاہتے ہو۔ حتی کہ اگر آپ سعودی لباس پہن کر کسی سعودی سے ملیں تو اس کو سخت کراہت ہوگی۔ وہ سمجھے گا کہ آپ اس طرح اس کا استحصال کرنا چاہتے ہیں۔