Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
یکم جولائی1996
آزادی سے پہلے برصغیر ہند کے لوگ کہتے تھے کہ ہم کو ہمارا ملک دیدو تاکہ ہم اس کو زیادہ بہتر ملک بناسکیں۔ 1947میںایک طرف کے لوگوں کو انڈیا مل گیا، اور دوسری طرف کے لوگوں کو پاکستان مل گیا۔ مگر پچھلے پچاس سال میں دونوں میں سے کوئی بھی اپنے آپ کو حکومت کا اہل ثابت نہ کرسکا۔ دونوں طرف کے لیڈروں نے اپنے اپنے ملک کو آخری حد تک کرپشن سے بھردیا۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب کرپشن مزید بڑھ کر بے شرمی کی حد تک پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کا حال یہ ہے کہ وہاں کروڑوں لوگ ابھی تک طرح طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔ اور موجودہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے حال میں سرے (انگلینڈ) میں اپنے خاندان کے لیے ایک محل خریدا ہے جس کی قیمت25لاکھ پونڈ ہے۔ وہ355ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کے اندر ایک ایئر اسٹرپ بھی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
دوسری طرف انڈیا کا حال یہ ہے کہ اس کے پرائم مسنٹر بی وی نرسمہا راؤ کی سرپرستی میں حال میں ان کے بیٹوں نے ایک بہت بڑا مالی اسکینڈل کیا۔ انہوں نے ترکی کی ایک غیر معروف فرم کارسن لمٹیڈ (Karsan Limited)سے133کروڑ روپیہ (فارین کرنسی) میں یوریا کا فرضی سودا کیا۔ ایگریمنٹ میں یہ لکھا گیا تھا کہ صد فی صد ادائیگی پیشگی کی جائے گی۔ چنانچہ ہندوستانی خزانہ سے مذکورہ رقم ڈالر میں ادا کردی گئی جب کہ اس کے بدلے میں یوریا کی ایک بوری بھی ہندوستان میں داخل نہیں ہوئی تھی۔ جون1996کے اخبارات ان دونوں خبروں سے بھرے رہے۔