Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22مئی1996
مجاہد قاسمی صاحب روزنامہ قومی آواز (دہلی) میں ملازم ہیں۔ اس کے ساتھ وہ جزئی طور پر الرسالہ کی کتاب بھی کرتے ہیں۔ اخبار میں دو درجن اور مسلمان بھی کام کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ مجاہد صاحب الرسالہ کا کام کرتے ہیں۔ تو یہ کہہ کر ان کا مذاق اڑانا شروع کردیا کہ دیکھو، یہ بھی فرقہ ٔ وحیدید سے تعلق رکھتے ہیں۔
اپنے ذاتی تجربہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچاہوں کہ اسلام کی تاریخ میں جوگمراہ فرقے کہے جاتے ہیں وہ زیادہ تر غیر سنجادہ مسلمانوں کے تشدد کی وجہ سے ہلدرمیں آتے۔ جب بھی کسی نے ایسی بات کہی جو وقت کے لوگوں کو اپنے مانس تصور کے خلاف معلوم ہوئی تو فوراً رسی کو مطعون کرنا اور اس کی بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا شروع کردیا۔ اس محاذ آرائی میں فریق ثانی اور فریق اول دونوں عدل سے ہٹ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فرق ضالّہ کی لمبی فہرست بن کر تیار ہوگئی۔
اللہ تعالیٰ نے میرا مزاج اس طرح بنایا ہے کہ میرے خلاف کوئی شخص خواہ کتنی ہی زیادہ بے ہودہ گوئی کرےمجھ کو غصہ نہیں آتا۔ ایک عرصہ سے میرے خلاف ہر قسم کی نازیباباتیں کہی جارہی ہیں، مگر میں نے ان کا جواب دینے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی۔ مگر لوگوں کی بیہودہ گوئیوں پر اگر مجھے غصہ آجاتا تو یقیناً میں ضد میں پڑجاتا اور پھر اعتدالی سے ہٹ کر ایسی باتیں کہنے لگتا جو واقعۃً الرسالہ مشن کو ’’فرقہ وحیدید‘‘ میں تبدیل کردیتیں۔ مگر یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں اللہ کے راستے سے بال برابر بھی نہیں ہٹا۔