Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
2نومبر1996
آسمان خدا کا ہے، اس لیے آسمانوں میں خدا کی حکومت قائم کرو۔ یہ ایک احمقانہ بات ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک احمقانہ نعرہ ہے کہ: زمین خدا کی ہے، اس لیے زمین میں خدا کی حکومت قائم کرو۔ دونوں ہی جملے یکساں طور پر لغو اور بے معنی ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ زمین خدا کی ہے، اس لیے زمین پر خدا کے بندے بن کر رہو۔ زمین کا مالک خدا ہے، اس لیے تمہارے لیے یہاں صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ تم خدا کی مالکیت کا اعتراف کرو اور اپنی زندگی میں اس روش کو اختیار کرو جو مالک کے مقابلہ میں کسی مملوک کے لیے سبزادارہوتی ہے۔
زمین کا خالق مالک خدا ہے۔ وہی اس کو قائم کرنے والا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ خدا کو اپنا معبود بنائے۔ وہ اس کی پرستش کرے۔ وہ اس کے عطیات پر اس کا شکراداکرے۔ وہ اس کی پکڑ کے ڈر سے اور اس کے انعامات کا امیدوارہو۔ وہ اس یقین کےس اتھ زندگی گزارے کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔
یہ عقیدہ ایک طرف انسان کو خدا کا عبادت گزار بناتا ہے۔ وہ خدا کے آگے خشوع اور تضرع کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ دوسری طرف انسان کے معاملہ میں وہ متواضع بن کر رہنے لگتا ہے۔ اس کے اخلاق و معاملات میں تقویٰ کی روح پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ الضا کے ساتھ انصاف کی روش اختیار کرتا ہے۔
وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ وہ معاملات میں دیانت دار بن جاتا ہے۔ وہ دھوکا اور تشدد اور ایذارسانی کے تمام طریقوں سے آخری حد تک دور ہوجاتا ہے۔ وہ دنیا میں خدا کا شاداب درخت بن جاتا ہے جس کے نیچے لوگ آرام کریں۔ جس سے لوگوں کو پھولوں کی مہک اور پھلوں کا ذائقہ ملے۔